Breaking News

ناشتے میں تازہ پھلوں کا جوس کتنا خوفناک ہو سکتا ہے ؟ ماہرین نے خبردار کردیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) بہت سے افراد صحت مند کھانوں میں تازہ جوس کا شمار کرتے ہیں اور انہیں ناشتہ میں استعمال کرتے ہیں۔تاہم ‘کونسلٹو ویب سائٹ کے مطابق تازہ تیاکردہ جوس کے گلاس سے انسانی جسم کو تین خطرات لاحق ہوتے ہیں کیونکہ اس کے اندر چینی کی کثیر مقدار کے ساتھ دیگر اجزاء بھی ہوتے ہیں جو صحت کیلیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔زیادہ وزن روزانہ جوس پینے سے جسم میں انسولین کے خلاف مزاحمت بڑھ جاتی ہے، اس سے خون میں شوگر کا اضافہ ہوجاتا ہے۔

اسی طرح پیٹ کے گرد چربی بڑھ جاتی ہے جس سے موٹاپا ہوجاتا ہے۔ذیابیطس تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جو افراد روزانہ پھلوں کا جوس پیتے ہیں ان میں ذیابیطس ٹو کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے ان افراد کے مقابلے میں جو جوس کی بجائے پھل کھاتے ہیں۔دل کی بیماریاں ہاروڈ یونیورسٹی میں ہونے والی تحقیق کے مطابق روزانہ جوس استعمال کرنے والے ایک ہزار افراد میں سے 168 انتقال کرگئے کیونکہ وہ دل کی بیماریوں کا شکار تھے۔ موت کی وجہ ان کا روزانہ جوس کا استعمال کرنا تھا۔ جوس سے ان کے دل کی دھڑکن کی رفتار تیز ہوگئی تھی جو موت کا سبب بنی۔جبکہ سابق صدر مملکت  ممنون حسین علالت کے باعث 81 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔سابق صدر مملک کے بیٹے ارسلان ممنون کے مطابق ممنون حسین دو ہفتوں سے نجی اسپتال میں زیر علاج تھے۔ وہ کینسر کے عارضے میں مبتلا تھے۔ممنون حسین نے سوگواروں میں بیوہ اور تین بیٹے چھوڑے ہیں۔ ممنون حسین 23 دسمبر 1940 کو آگرہ شہر میں پیدا ہوئے، وہ پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنماؤں میں سے ایک تھے اور 2013 سے 2018 تک صدر مملکت کے عہدے پر فائز رہے۔ ان کا خاندان 1947 میں ہجرت کرکے پاکستان آیا۔ ممنون حسین نے جامعہ کراچی سے گریجویشن اور انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن سے ماسٹرز کیا۔ 60 کی دہائی میں کراچی میں کاروبار کا آغاز کیا اور بعد میں سیاست میں آگئے۔ صدر مملکت عارف علوی، مسلم لیگ ن کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور ڈپٹی چئیرمین سینیٹ مرزا آفریدی، سابق صدر آصف علی زرداری نے ممنون حسین کے انتقال پر اظہار افسوس کیا ہے۔

About admin

Check Also

بھوکی لڑکی۔۔۔۔؟؟

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) اس کی خوبصورتی کا پورے محلے چرچاتھا جب کبھی بھی خوبصورت بچیوں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *