Breaking News

سلاد اور کھیرے کو ملاکر ہرگز استعمال نہ کریں ورنہ پچھتائیں گے ،ماہرین نے حیران کن انکشاف کردیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سلاد میں کھیرے، پیاز اور ٹماٹروں کو بہت شوق سے کھایا جاتا ہے اور یہ سمجھاجاتا ہے کہ ان کی وجہ سے جسم کو توانائی اور متوازن خورک ملتی ہے لیکن ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ کھیروں اور ٹماٹروں کو کبھی بھی ملا کر نہیں کھانا چاہیے۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ کھیروں اور ٹماٹروں کو ہضم ہونے میں ایک جیسا وقت نہیں لگتا لہذا کبھی بھی انہیں ملا کر نہ کھائیں۔ان کا کہنا ہے کہ جو کھانا جلد ہضم ہوجائے اور دوسرا دیر لگائے تو اس کی وجہ سے معدے پر زیادہ بوجھ پڑتا ہے اور ساتھ ہی جسم میں پوائزن ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایسے کھانوں کو ملا کرکھانے سے پیٹ میں گیس، سوزش اور درد کا مسئلہ پیدا ہوجاتا ہے۔ نہ صرف ٹماٹر اور کھیرے کو ملا کر کبھی نہیں کھانا چاہیے بلکہ کچھ کھانے ایسے بھی ہیں جنہیں کبھی ملا کر نہیں کھانا چاہیے،آئیے آپ کو ان کے بارے میں بتاتے ہیں۔کھانے کے بعد پھل:اکثر کھانے کے بعد پھل شوق سے کھایا جاتا ہے لیکن یہ ایک قبیح عادت ہے لہذا ابھی سے یہ عادت تبدیل کرلیں۔ کھانے کے بعد پھل کھانے سے انہیں ہضم ہونے میں دیر لگتی ہے جس کی وجہ سے یہ معدے میں زیادہ دیر رہتے ہیں مکرونی اور چیز(پنیر)یا گوشت:یہ کھانا بھی شوق سے کھایا جاتا ہے لیکن یہ بھی صحت کے لئے نقصان دہ ہے۔ مکرونی سٹارچ سے بھرپور ہوتی ہے جبکہ پنیر یا گوشت میں پروٹین ہوتی ہے اور ان دونوں کا ہضم ہونے کا وقت مختلف ہے جس کی وجہ سے پیٹ میں گیس کا مسئلہ بڑھ جاتا ہے۔بریڈ یا نوڈلز جوس کے ساتھ: جوس میں موجود ایسڈز کی وجہ سے نوڈلز اور بریڈ کا سٹارچ متاثر ہوگا اور ہضم ہونے میں مشکل ہوگی۔ سبزیاں اور پنیر:ان دونوں کو ملا کر کھانے سے پیٹ میں گیس بھرنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔تربوز اور خربوزہ:ان میں سے صرف ایک پھل ایک وقت میں کھائیں، کبھی بھی دونوں کو ملا کر نہیں کھانا چاہیے۔ کیلا اور دودھ:ان دونوں کو ملا کر شیک کی صورت میں بہت پسند کیا جاتا ہے لیکن اس کی وجہ سے نظام انہضام سست ہوجاتا ہے۔

About admin

Check Also

“ایشوریا سے بریک اپ کے بعد خود پر کنٹرول نہیں رکھ پاتا اور ایک بار تو۔۔۔۔۔ بالآخر سلمان خان نے اعتراف کرلیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) بھارتی میڈیا کے مطابق ایک انٹریو میں خود سلمان خان نے اس …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *