Breaking News

طوائف سے عشق کا انجام

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ایک انسپکٹرکوطوائف سے عشق ہوگیا اورپھر اسے حاصل کرنے کے لیے اس نے تگ ودو شروع کر دی۔انسپکٹرخوشحال فیملی سے تعلق رکھتا تھا ایک دن تھانے میں بیٹھا تھا کہ اسے اچانک ایک گمنام فون کال موصول ہوئی جس میں شکایت کی گئی تھی کہ فلا ں جگہ پر ایک لڑکی کاریپ کیا جا رہا ہے ۔

وہ فوراً3سپاہیوں کولے کر مطلوبہ جگہ پر پہنچا۔ایک چھوٹا سا کچا سا مکان تھا۔اندر داخل ہوا تونسوانی چیخ وپکارصاف سنائی دے رہی تھی اس نے سپاہیوں کومستعد ہونے کا اشارہ کیا اورسب کو ایک کمرے میں جانے کے لیے کہا اورخود بھی ایک کمرے میں گھس گیا اندر داخل ہوا تو لڑکی نیم برہنہ حالت میں تھی اورایک آدمی اس کے کپڑے اتارنے کی کوشش کررہا تھا اس نے جاتے ہی آدمی کے سر پر زوردارمکا رسید کیا جس سے وہ وہیں پرگرپڑا۔پھرلڑکی کی جانب متوجہ ہوا۔لڑکی کی حالت دیکھ کر انسپکٹر چکرا گیا اس سے پہلے کہ کانسٹیبل کمرے میں داخل ہوتے انسپکٹرنے لڑکی کوکپڑے ٹھیک کرنے کاحکم دیا لیکن لڑکی تھی کہ مسلسل انسپکٹرکوگھورے جارہی تھی انسپکٹرنے ہمت دکھائی اورکانسٹیبل کے آنے سے پہلے لڑکی کے سینے کوڈھکا اوربٹن بند کر دیئے۔ لڑکی آنکھوں سے آنسو بہاتے بت بنے کھڑی تھی اتنے میں انسپکٹر کو پیچھے سے آوازآئی ’’ٹارگٹ حاصل کرلیا ہے سر‘‘انسپکٹرنے پیچھے مڑ کردیکھا توسپاہیوں نے اس آدمی کوہتھکڑ یاں لگا دیں تھیں اوراسے اپنے قابومیں کر لیا تھا انسپکٹرنے انہیں اشارہ کیا اور وہ ملزم کوموبائل میں ڈالنے کے لیے لے گئے ۔انسپکٹر نے لڑکی سے پوچھا بی بی تم کدھر سے آئی ہو اور یہاں کیسے پہنچی ؟ وہ ابھی کچھ نہ بول پائی تھی۔

کہ انسپکٹر کی وائرلیس پر تھانے کی طرف سے پیغام آیا کہ لڑکی کے ورثا تھانے آچکے ہیں فورا لڑکی کوتھانے لیکرپہنچو انسپکٹر نے لڑکی کوموبائل وین میں بٹھایا اورسیدھا تھانےپہنچ  گیا اور وہاں لڑکی کے ورثا کو دیکھ کرایک ہی نظرمیں پہچان گیا کیونکہ وہ بھی دھندہ کرنےوالے لوگ تھے۔ کاغذی کارروائی کے بعد لڑکی کو ورثا کے حوالے کرنے کے بعد انسپکٹر کا ذہن منتشرتھا اورانسپکٹر تھانے سے فوراً نکل گیا اور رات کواسے چین نہیں آیا یہی بات سوچتا رہا کہ اگرلڑکی دھندہ کرنے والوں کی ہے تو اس نے شورکیوں نہیں مچایا کیونکہ لوگ اس کام کے لیےاچھی خاصی رقم لیتے ہیں اوراگرلڑکی دھندہ کرنے والوں کی نہیں ہے توان کے ہتھے کیسے چڑھ گئی تواس نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ لڑکی بالکل نئی تھی جوان لوگوں کے ہتھے چڑھ گئی انسپکٹرمسلسل بے چین تھا اور لڑکی کی محبت میں گرفتارہوچکا تھااوروہ آدھی رات کو پرانے کپڑے پہن کر بالوں کاحلیہ بگاڑ کر باہرنکل گیا تاکہ اسے کوئی پہچان نہ سکے اوررات کوہی جسم فروشوں کے اڈے پر پہنچ گیاجب اندر پہنچا تودیکھا کہ چار پانچ بوڑھی عورتیں میک لگائے منہ میں بڑے بڑے پان دبائے بیٹھی تھیں یہ عورتیں گاہک کے ساتھ پیسے طے کرتی تھیں ۔

انسپکٹرکودیکھ کرایک عورت بولی ’’ارے بھئی جوان ادھرآؤاپنا ہی گھرسمجھو اسے‘‘اورساتھ میں عجیب ہنسی ہنس رہی تھی۔انسپکٹرنے اس کے سامنے جاتے ہوئے پوچھا’’بڑھیاکوئی نیا مال ہے یا تم ہی میرے کام آوگی‘‘وہ بڑی بے باکی سے قمیض کوجھٹکا دیتے ہوئے بولی ’’اصل مال تومیرے پاس ہے باقی توسب دھوکا ہے بابو‘‘انسپکٹرنے کہا کی مجھے کوئی ایسی چیز دکھاؤ جومیں نے پہلے نہ دیکھی ہوتواس نے اشارے سے ایک لڑکی کو بلایااوراسے ہدایت دیتے ہوئے بولی کہ اسے ’’چھمو‘‘ کے پاس لے جاؤ انسپکٹر کی قسمت کام کرگئی اوریہ وہی لڑکی نکل آئی جس سے انسپکٹر پیارکرنے لگا تھااس نے اس کا ہاتھ تھام کرلڑکی کوتسلی دی کہ میں وہی انسپکٹر ہوں مجھے اپنے بارے میں سچ بتاؤانسپکٹرکی باتوں سے اسے حوصلہ ملااوروہ سچ بولنے لگی ۔ لڑکی نے کہا کہ میرانام’’چھمو‘‘ ہے اورمیرے ابا نے دولاکھ روپے لے کران درندوں کے ہاتھوں مجھے فروخت کردیا ہے میں یہاں کسی صورت نہیں رہناچاہتی مجھے یہاں سے نکال لو۔انسپکٹر موقع دیکھ بولا کہ کیا تم میری بیوی بن کررہنا پسند کروگی تواس نے جواب دیا کہ صاحب میں توآپ کی نوکرانی بھی بن کررہ لوں گی لیکن یہاں نہیں رہ سکتی ۔انسپکٹر اب لڑکی کودھندہ فروشوں سے آزاد کرنے کی کوشش میں لگ گیا کیونکہ قانونی طریقے سے تووہ ایسا کرنہیں سکتا تھا لیکن اس نے تگ ودوکرکے اس لڑکی کوان کے چنگل سے آزادکرا لیا اوراس سے شادی کرلی۔

About admin

Check Also

آج کل ہر دوسرا فرد کینسر کا شکار کیوں ہو رہا ہے؟وہ انتہائی عام غلطی جو کینسر کا باعث بنتی ہے

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) کینسر اب لاعلاج مرض نہیں مگر اس کا علاج انتہائی تکلیف دہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *