Breaking News

خواتین فوجیوں کی تصاویر سامنے آنے پر ہنگامہ کیوں کھڑا کیا گیا تھا؟ جانیئے ان تصاویر کے پیچھے چھپی اصل حقیقت

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) فوجیوں کو دیکھ کر سب ہی اُف ضرور کہتے ہیں، کہ کاش اس جگہ ہم ہوتے کیونکہ وہ مقام ہی منفرد ہوتا ہے اور فوجیوں کی اپنی الگ پہچان ہوتی ہے، کچھ لوگ ان کے لباس سے متاثر ہوتے ہیں اور کچھ لوگ ان کے اندازِ بیاں سے۔ بہرحال خواتین فوجی اہلکار مردوں کے مقابلے عام لوگوں میں کم ہی ملتی جلتی ہیں اور ان سے متعلق خبریں بھی کم ہی سننے کو ملتی ہیں۔ لیکن آج کل سوشل میڈیا پر خواتین فوجی اہلکاروں کے ہائی ہیلز جوتوں کی تصاویر بہت وائرل ہو رہی ہیں اور سب لوگ اس پر اپنے ملے جلے تاثرات دے رہے ہیں۔

دی گارجین نیوز کے مطابق یہ ہائی ہیلز جوتے یوکرائن کی فوجی خواتین کے ہیں جو اگست کے ماہ میں آزادی کے 30 سال مکمل ہونے کی خوشی میں فوجی پریڈ کے لیے تیاریاں کررہی ہیں۔لیکن جہاں یہ جوتوں کی ہائی ہیلز کے ساتھ تصاویر نظر آئیں وہیں یوکرائن کی قومی اسمبلی میں تو ہنگامہ ہی ہوگیا، کیونکہ کچھ لوگوں نے اس کو خواتین فوجی اہلکاروں کے ساتھ ظلم قرار دے دیا،جس کی وجہ یہ ہے کہ دورانِ پریڈ زمین پر پاؤں زور سے مارنے ہوتے ہیں اور جلدی جلدی چلنا ہوتا ہے، جس میں اونچی ہیلز کے ساتھ چلنا مشکل ہے اور چوٹ لگنے، زخمی ہونے کے خدشات زیادہ ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ یوکرائن کی قومی اسمبلی میں موجود خواتین ممبر نے بائیکاٹ کیا، اور کہا کہ نارمل ہیلز کے جوتے پریڈ میں استعمال کروائے جائیں۔ البتہ یوکرائن کی فوجی پی آر او ایکزائنڈ آلفرپ کے مطابق اس اقدام کو کرنے سے قبل خود خواتین فوجی اہلکاروں نے رضامندی کا اظہار کیا تھا، کہ اس مرتبہ ملکی آزادی کا جشن کچھ منفرد انداز میں منائیں گے۔ اور فوجی میڈیکل کیمپ کے ماہر نے کہا کہ خواتین اونچی ہیلز پہننے کے بعد پاؤں تیزی سے اگے بڑھانے میں کمال رکھتی ہیں کیونکہ اونچی ہیلز پاؤں کو آگے کی جانب دھکیلتی ہے جس سے جلدی ہی راستہ طے ہوتا ہے اور پریڈ کے دوران خاص قسم کے آرام دہ جوتے تیار کروائے گئے ہیں جس سے زمین پر پاؤں کو پٹخنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئے گی۔

About admin

Check Also

“ایشوریا سے بریک اپ کے بعد خود پر کنٹرول نہیں رکھ پاتا اور ایک بار تو۔۔۔۔۔ بالآخر سلمان خان نے اعتراف کرلیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) بھارتی میڈیا کے مطابق ایک انٹریو میں خود سلمان خان نے اس …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *