Breaking News

چند ماہ کے بچے کی اپنے والدین کے ولیمے میں شرکت ، مگر کیسے ؟ایک پاکستانی جوڑے کے شادی کی ناقابل یقین رپورٹ

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستانی شادیوں کے حوالے سے اکثر یہ دیکھا اور سنا جاتا ہے کہ شادی بیاہ کی تقریب ختم ہوتی نہیں ہے اور خاندان کے بڑے اس جوڑے سے ‘خوشخبری’ کے بارے میں سوال کرنے لگ جاتے ہیں۔ لیکن حال ہی میں حافظ آباد میں ایک جوڑےکے چرچے سوشل میڈیا پر صرف اسی بنا پر پھیل گئے ۔

جب ان کی وہ تصاویر وائرل ہو گئی جس میں ولیمے کی تقریب میں دلہا دلہن اپنی گود میں اپنے نومولود بیٹے کو ساتھ لے کر ہال میں داخل ہوئے۔حافظ آباد کے 26 سالہ وکیل ریان رؤف شیخ اور ان کی اہلیہ انمول کا ولیمہ 23 مارچ کو منعقد ہوا جس میں انھوں نے داخل ہوتے ہوئے اپنے دو ماہ کے بیٹے محمد بن ریان کو گود میں لیا ہوا تھا۔ یہ تصویر جیسے ہی سوشل میڈیا پر پہنچی تو لوگوں نے پر مختلف تبصرے کیے۔کسی نے کہا کہ لگ رہا ہے کہ یہ دوسری شادی ہے تو کسی نے کہا کہ یہ تو بہت اچھی بات ہے کہ ولیمے کا انعقاد کیا گیا اور سنت کو پورا کیا گیا۔جبکہ ایک صارف نے اپنے تجسس کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ انھیں معاملہ سمجھ نہیں آ رہا اور کئی اس کی وضاحت کر دے۔تو اسی جواب کی کھوج میں بی بی سی نے اس جوڑے سے رابطہ کرنے کی کوشش کی۔حافظ آباد سے تعلق رکھنے والے ریان رؤف سے جب بی بی سی نے اس بابت سوال کیا تو انھوں نے بتایا کہ ان کا ولیمہ گذشتہ سال 14 مارچ کو منعقد ہونا تھا لیکن حکومت کی جانب سے 14 مارچ کی صبح لاک ڈاؤن کے اعلان کے بعد انھیں ولیمہ منسوخ کرنا پڑ گیا۔ریان شیخ نے بتایا کہ وہ اور ان کے گھر والے 14 تاریخ کی صبح تک بھی یہی سمجھ رہے تھے۔

کہ اگر اجازت مل جائے تو وہ فنکشن کر لیں گے۔’یہ تقریب ہمارے اپنے ہال میں ہونی تھی تو جب لاک ڈاؤن کا اعلان ہوا تو ہم سمجھے کچھ دیر کی ہی بات ہے، اور ہم 14 مارچ کو نہیں توایک دو روز میں یہ تقریب کر لیں گے، لیکن کسی کو کیا معلوم تھا کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔’ریان شیخ نے بتایا کہ اس کے بعد وہ اور ان کے گھر والے اس بات پر واضح نہیں تھے کہ دوبارہ کب تاریخ دیں۔ ان کے مطابق وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے بیرون ملک رہنے والے قریبی رشتے دار ولیمے میں شرکت سے محروم رہ جائیں لیکن کووڈ 19 کی وجہ سے لگی ہوئی پابندیوں کے باعث ان کے لیے بھی بیرون ملک سے آنا ممکن نہیں تھا۔ریان کہتے ہیں کہ آگے کی تاریخ رکھنے میں بھی دشواری کا سامنا تھا کیونکہ پھر اس کے بعد رمضان آ گیا اور پھر عید آ گئی اور لاک ڈاؤن کا سلسلہ جاری رہا اور حکومت نے ان تقریبات پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔’جب حکومت نے ستمبر ، اکتوبر میں دوبارہ پابندیاں ختم کرنی شروع کی تو اس وقت تک میری اہلیہ امید سے ہو چکی تھیں اور ہم نے یہ مناسب نہیں سمجھا کہ اب ولیمہ کیا جائے کیونکہ ہمیں نظر لگ جانے کا ڈر تھا۔’جنوری 2021 میں ریان شیخ اور ان کی اہلیہ انمول، جو کہ ایک بیوٹیشن اور میک اپ آرٹسٹ ہیں۔

کے گھر ان کے بیٹے کی ولادت ہوئی جس کے بعد ان دونوں نے دوبارہ ولیمے کی تقریب کے بارے میں سوچنا شروع کیا۔’بیٹا ہونے کے بعد ہم نے دوبارہ ولیمے کا سوچا اور ہمارے والدین بھی پوری طرح نہ صرف تیار تھے بلکہ اس کے لیے بہت پرجوش بھی تھے۔’ریان شیخ بتاتے ہیں کہ گذشتہ برس انھوں نے اپنے ولیمے میں 800 سے زیادہ افراد کو مدعو کیا تھا تاہم اس سال وبا کے باعث لگی ایس او پیز کی وجہ سے انھوں نے 200 افراد کو ولیمے کی تقریب میں دعوت دی جہاں ان کی تصویر وائرل ہوئی۔’پہلے تو ارادہ تھا کہ تقریب میں داخل ہوتے ہوئے میں اور میری اہلیہ ساتھ ہوں گے اور بیٹا اپنے دادا، دادی کے ساتھ۔ لیکن پھر میں نے کہا کہ نہیں، میں تو اپنے بیٹے کے ساتھ ہی ہال میں داخل ہوں گا۔’ریان شیخ بتاتے ہیں کہ ولیمے کے بعد ہی انھیں کسی رشتے دار نے تصویر دکھائی جو انسٹا گرام پر تھی اور بتایا کہ یہ مشہور ہو رہی ہے تو اس وقت انھوں نے زیادہ توجہ نہیں دی تاہم اگلے روز جب وہ صبح اٹھے تو انھیں پتہ چلا کہ یہ تصویر ہر جگہ پھیل گئی ہے۔’ہم نے تو سوچا ہی نہیں تھا۔ لوگوں کے زیادہ تر بہت مثبت پیغامات تھے، 80 فیصد مثبت پیغامات ہی تھے۔ کسی نے لکھا کہ پہلا بچہ ہوگا جو اپنے ہی والدین کے ولیمے میں شرکت کر رہا تھا۔’ریان اور انمول کی اپنے بیٹے کے ساتھ ولیمے کی اس تصویر پر صارفین نے بھی کافی تبصرہ کیا۔

About admin

Check Also

نکاح سے پہلے

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) بھائی آپ مجھے جان سے ما ر دیں۔ اتنا بڑا گناہ ہوگیا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *