Breaking News

سعودی عرب کے صحرا سے 400 سال پُراسرار ’دروازے‘ دریافت

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا کے تحقیق دان نے گوگل ارتھ کی مدد سے سعودی عرب کے صحرا میں پتھر سے تعمیر ہوئے 400 پراسرار ’دروازے‘ دریافت کیے ہیں۔ ڈیوڈ کینیڈی اور ان کی ٹیم نے کئی دہائیوں تک مشرق وسطیٰ میں آثار قدیمہ پر کام کیا ہے۔

ڈیوڈ کا کہنا ہے کہ یہ دیکھنے میں ‘دروازوں’ کی مانند ہیں اور یہ ہاتھ سے تعمیر کیے گئے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اندازے کے مطابق ان ‘دروازوں’ کو دو ہزار سے نو ہزار سال قبل تعمیر کیا گیا تھا۔تاہم انھوں نے کہا کہ اس دروازوں کا مقصد کیا تھا اس بات کو معلوم کرنا ہے۔ یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا میں کام کرنے والے ڈیوڈ کینیڈی نے کہا ‘آپ اگر زمین پر موجود رہ کر ان کو تلاش کرتے ہیں تو ان کے آثار نہیں ملتے۔لیکن جونہی آپ چند سو فٹ بلندی سے اس جگہ کا معائنہ کرتے ہیں تو یہ صاف ظاہر ہوتے ہیں۔’ ڈیوڈ نے کہا کہ 40 سال سے اس خطے میں کام کرنے کے باوجود وہ سیٹیلائٹ سے لی گئی تصاویر میں گیٹ کو دیکھ کر پہلے دنگ رہ گئے کیونکہ یہ نہایت ہی دور افتادہ علاقے میں تھا اور یہ ایک ایسی جگہ پر تھا جہاں قدیم آتش فشاں واقع تھی۔ ‘میں ان کو گیٹ کہتا ہوں کیونکہ جب اس سٹرکچر کو آپ اوپر سے دیکھتے ہیں تو ایسا لگتا ہے جیسے دو پوسٹوں کے درمیان گیٹ سیدھا پڑا ہے اور دونوں پوسٹوں کے درمیان لمبی سلاخیں ہیں۔یہ ایسا سٹرکچر نہیں لگتا جہاں لوگ رہتے ہوں گے یا پھر جانوروں کو پکڑنے کے لیے پنجرے ہوں یا پھر لاشوں کو ٹھکانے لگانے کی جگہ ہو۔ یہ ابھی دریافت کرنا باقی ہے کہ اس جگہ کا مقصد کیا تھا۔’ڈیوڈ کینیڈی کی یہ تحقیق اریبیئن آرکیولوجی جرنل میں شائع ہو گی۔

About admin

Check Also

نکاح سے پہلے

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) بھائی آپ مجھے جان سے ما ر دیں۔ اتنا بڑا گناہ ہوگیا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *