Breaking News

ان بد دعاؤں سے ڈرو۔ جو بول کر نہیں دی جا تیں۔

اللہ اکبر ۔۔۔۔ اللہ سے محبت  اور انسان سے محبت میں سب سے بڑا فرق  یہ ہے کہ انسان سے محبت ہماری سب سے بڑی کمزوری اور اللہ سے محبت ہماری سب سے بڑی طاقت بن جا تی ہے۔  کسی سے نیکی کر تے وقت بدلے کی امید صرف اللہ سے رکھو۔  ان بد دعاؤں سے ڈرو۔

جو بول کر نہیں دی جا تیں۔  زندگی کے ہر موڑ پر جہاں امتحان ہو تے ہیں اللہ کی مدد بھی وہیں موجود ہو تی ہے۔ مضبوط تو ہو  ہے جو رونے کے بعد اپنے آپ کو خود سمجھائے کہ اللہ ہے نہ سب ٹھیک کر نے کے لیے۔  جب تم اس کی چاہت کو اپنی چاہت  بنا لیتے ہو تو وہ بھی تمہاری چاہت کے لیے کن فر ما دیتا ہے۔  پھر پریشان نہیں کر تیں انہیں زندگی کی ٹھو کر یں جنہیں اللہ کا نام لے کر سنبھل  جانے کی عادت ہو۔ بہترین تحفہ وہ ہے جو ہم کسی کو ان کی غیر موجودگی  میں دے سکیں ان کے لیے دعائے خیر کر یں کیونکہ دعا میں وہ طاقت ہے جو تقدیر بدل سکتی ہے۔  کیا یہ س ز ا کافی  نہیں کہ اللہ تمہیں سب کچھ دے کر بھی سجدوں کی توفیق نہیں دیتا۔  وہ آزما تا تو  ہے مگر راستہ بھی وہی دکھا تا ہے کیونکہ وہ رب غفورالرحیم ہے۔ جب کہ حضرت مو لا نا  جلال الدین رومی رحمۃ اللہ فر ما تے ہیں۔  اللہ تعالیٰ جب کسی شخص کی پردہ پوشی کر نا چاہتا ہے تو اسے معیوب لوگوں کے عیبوں پر بھی بات نہ کرنے کی توفیق بخش دیتا ہے۔  عقل کو خواہش  پر فضیلت  حاصل ہے کیونکہ  عقل زمانے   کو تمہارے ہاتھ دے دیتی ہے جب کہ خواہش  آپ کو  زمانے  کا غلام  بنا دیتی ہے۔  درویش  کی مثال ایسی ہے کہ ایک خالی گھڑا ہے جس کا منہ بند ہے  دریا میں کیسا بھی طوفان  بر پا ہو۔ وہ اس میں ڈوب نہیں سکتا۔  اللہ والوں کی باتیں  سکون قلب  عطا کر تی ہیں اور اہلِ  ظاہر کی باتیں دل میں انتشار  اور بے  اطمینانی  پیدا کر تی ہیں۔  ایسے   دکھو جو تم ہو یا پھر ویسے  بن جا ؤ جیسے تم دکھنا چاہتے ہو۔  اللہ تعالیٰ ظاہر  کی بجائے باطن اور کل کی بجائے حال  کو دیکھتا۔  خوشی خالص اور شفاف پانی کی مانند ہے  ، جہاں جہاں یہ بہتا ہے۔

About admin

Check Also

ایک یہودی نے سوال کیا: وہ کون سی قوم ہے جو سچ بولے گی پھر بھی جہنم میں جائے گی؟

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) یہ یہودیوں کا ایک نامی گرامی خطیب تھا اچانک اُ سکی زبان …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *