کل کے گہرے دوست آج کے جانی دشمن کیسے بنے ‘‘ کیا آپ جانتے ہیں کہ اس تصویر میں یہ 2 سیاستدان کون ہیں ؟

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سیاست بھی بڑی عجیب و غریب شے ہے ۔ کب دوستی دشمنی میں بدل جائے اور کب دشمنی دوستی میں، کچھ پتہ نہیں لگتا ۔2نومبر اسلام آباد لاک ڈاؤن کی کال پر عمران خاں کے جیالے اسلام آباد اُمڈے چلے آئے ۔ بنی گالہ پہنچنے کی کوحتی المقدور کوششیں جاری رہیں۔

یہاں تک وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اپنی مقررہ وقت پر جائے وزارت سے اٹھے اور جیالوں کا قافلہ لے کر اسلام آباد کے راستے ہو لئے ۔قافلے کی راہ میں پہلی بڑی اور آخری رکاوٹ بھی برہان انٹر چینج پر اٹک پل تھا جہاں ایک طرح سے وفاق اور کے پی کے حکومت ایک دوسرے کیخلاف مورچہ زن ہوئیں ۔ لمحہ بہ لمحہ تمام صورتحال کو عوام کے سامنے لانے والے میڈیا چینلز کے مطابق ایک طرف سے شیلنگ ہوئی تو دوسری طرف سے پتھروں کی بارش اور شاید یہی وہ لمحہ تھا جب سالوں پرانی دوستی کا اختتام ہوا۔ یہ دوستی تھی اُس وقت کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور اُس وقت کے وزیر اعلیٰ کے پی کے پرویز خٹک کی ۔ اس دوستی کا علم شاید پاکستان کی بیشتر عوام کو نہ ہو تاہم لاہور سے تعلق رکھنے والی معروف سماجی شخصیت یوسف صلاح الدین نے اپنے فیس بک پیج پر ایک نایاب تصویر شیئرکی جس میں آج کے سخت سیاسی حریف ، بہترین دوستوں کی طرح دکھائی دے رہے ہیں۔یوسف صلاح الدین نے اپنی پوسٹ میں جو تصویر شیئر کی ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کی شادی کی ہے،اس موقع پر پرویز خٹک کی بائیں جانب موجودہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان بھی موجود ہیں۔

آج بے شک دونوں شخصیات کے درمیان کے درمیان بے پناہ سیاسی مخالفت نظر آتی ہے مگر شادی کی پر مسرت تقریب کی گروپ فوٹو واضح طور پر یہ بتا رہی ہے کہ پرویز خٹک اور چوہدری نثار میں کبھی بہترین دوستی ہوا کرتی تھی۔ تو یہ سیاست واقعی بڑی عجیب و غریب شے ہے ۔ کب دوستی دشمنی میں بدل جائے اور کب دشمنی دوستی میں ،کچھ پتہ نہیں لگتا ۔۔۔۔یہ بھی پڑھیں۔۔۔1983ملبورن آسٹریلیا میں پیدا ہونیوالی شنیرا تھامسن ایک نجی تقریب میں اپنے دوستوں کے ہمراہ شریک تھی ، اچانک اسے اپنے عقب میں کسی کی موجودگی کا احساس ہوا ، اس نے پلٹ کر دیکھا تو حیران رہ گئی ، اس کے سامنے دنیائے کرکٹ کے عظیم پاکستانی بائولر سلطان آف سوئنگ وسیم اکرم کھڑے تھے۔ وسیم اکرم اپنے دوست کے ہمراہ میزبان کی دعوت پرجو کہ شنیرا کا بھی دوست تھا تقریب میں شریک تھے۔ وسیم اکرم پہلی ہی نظر میں اس بلی آنکھوں والی گوری شنیرا تھامسن کو دل دے بیٹھے تھے، بہانے سے اس کے قریب جا بات کرنا کا دل چاہا تو دل پر قابو نہ رکھ سکے ۔ باتوں باتوں میں دونوں نے محسوس کیا کہ اس پہلی ملاقات میں دونوں بلا جھجک آسانی سےایک دوسرے سے بات کر رہے ہیں۔ وسیم اکرم نے شنیرا تھامسن سے اس سے رابطے کیلئے نمبر مانگ لیا اور موبائل کے ذریعہ بات چیت کا سلسلہ جاری رہا۔

ایک نہایت دلکش شام ملبورن پہنچنے پر وسیم نے شنیرا سے شادی کی خواہش کا اظہار کر دیا۔ پیشے کے اعتبار سے فلن تھراپسٹ اور ماہر تعلقات عامہ شنیرا تھامسن نے حیران کن جواب دیا۔ اس نے کہا کہ میری شادی کا فیصلہ میرے والدین کرینگے۔ وسیم اکرم حیران رہ گئے کہ ایک مغربی معاشرے میں پلی بڑھی خاتون اندر سے مشرقی نکلے گی اور اپنی شادی کا فیصلہ والدین کی رضامندی سے لینے کا اظہار کر دے گی۔ شنیرا کے والدمسٹر تھامسن پیشہ کے اعتبار سے جاسوس ہیں جو ایک پرائیویٹ ڈیٹیکٹو ایجنسی چلاتے ہیں۔ وسیم اکرم سے ملاقات کے بعد انہوں نے بیٹی کو بلا کر اس کے پسند کردہ شخصپر اعتماد کا اظہار کیا اور یوں شنیرا وسیم اکرم کی زندگی کی ساتھی بن گئی۔ شنیراکی وسیم اکرم سے شادی اسلامی رسوم و رواج کے مطابق ہوئی۔معروف پاکستانی بلے باز اور مبلغ سعید انور نے شنیرا تھامسن کو کلمہ پڑھایا اور 12اگست کو لاہور میں ہونے والی رسم نکاح کی تقریب میں دونوں کا نکاح پڑھوایااور یوں شنیرا تھامسن شنیرا وسیم اکرم بن گئی۔ گزشتہ سال عید کے موقع پر ایک ٹی وی پروگرام سے خصوصی نشست کے دوران وسیم اکرم کے ہمراہ شنیرا بھی شریک ہوئیں۔ شنیرا نے نہایت دلچسپ بات بتاتے ہوئے کہا کہ1992کے ورلڈ کپ کے فائنل میچ جو کہ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان کھیلا گیا تھا کے دوران میں صرف 7یا آٹھ برس کی تھی اور گھر پر موجود میچ سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔ میں کسی ٹیم کی حمایت نہیں کر رہی تھی بلکہ چوکوں ، چھکوں اور کھلاڑیوں کے آؤٹ ہونے کا مزہ لے رہی تھی ، جب کوئی آؤٹ ہوتا تو میں ٹی وی سکرین کے سامنے اچھلنے لگ جاتی۔ مجھے نہیں پتا تھا کہ جو شخص انگلینڈ کی وکٹوں کے پڑخچے اڑا رہا ہے کہ وہ کل میرا شوہر بن جائے گا۔

About admin

Check Also

افسوسناک خبر : ڈرامے کا سین حقیقت بن گیا ، اداکار اعجاز اسلم کے حوالے سے افسوسناک اطلاعات

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان ٹی وی انڈسٹری کے مقبول ترین اداکار اعجاز اسلم نے انکشاف …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *