Breaking News

حکومت اور ٹی ایل پی کے درمیان مذاکرات و معاہدہ : مگر پنجاب پولیس اب حکومت کے بارے میں کیا سوچنے لگی ہے ؟ اعزاز سید کی تہلکہ خیز

نامور صحافی اعزاز سید بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔حکومت اور کالعدم تحریک لبیک کے درمیان مذاکرات کے باقائدہ آغاز کا اعلان 19 اپریل 2021 کو کیا گیا مگر عملی طور پریہ مذاکرات گورنر پنجاب اور صوبائی وزیرِ قانون راجہ بشارت کی سربراہی میں ایک روز قبل یعنی 18 اپریل کو ہی لاہور میں شروع ہو چکے تھے۔

حکومت اور فیصلہ سازوں کو یہ خوف بھی تھا کہ کالعدم جماعت کی طرف سے 20 اپریل کو دی گئی احتجاج کی کال پر عوامی ردعمل آیا تو حکومت کے لیے شرمندگی اٹھانے کے سوا کچھ نہیں بچے گا۔ حکومت پر سوشل میڈیا کے ذریعے بھی تنقید عروج پر تھی اور ان پلیٹ فارمز پر اموات کی تعداد کو بھی بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا تھا۔ اسی پس منظر میں ایک طاقتور خفیہ ادارے کے افسر نے 19 اپریل کو وزیرِ اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ان کے دفتر میں ملاقات کر کے انھیں بتایا کہ وہ صوبائی پولیس و انتظامیہ کو صوبے بھر میں گرفتار کیے گئے کالعدم جماعت کے افراد کی فہرستیں بنانے اور انھیں چھوڑنے کی تیاریاں کریں۔ شاید اس وقت تک ذہنی طورپر کالعدم جماعت کے زیرِ حراست افراد کو مذاکرات کے دوران دھرنا ختم کرنے کے عوض چھوڑنے کو کارڈ کے طور پر استعمال کرنے کی تیاری کر لی گئی تھی۔سرکاری حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ اس معاملے پر پولیس میں بڑی بیزاری پیدا ہوئی جس کا اظہار انسپکٹر جنرل پولیس انعام غنی کی طرف سے وزیرِ اعظم اور وزیرِ اعلیٰ کے دفاتر میں بھی کیا گیا۔ اب پورے پاکستان بالخصوص شہروں میں امن عامہ کو یقینی بناتے ہوئے پولیس کی نظریں لاہور میں حکومت اور کالعدم تحریک لبیک کے درمیان مذاکرات پر مرکوز تھیں۔

مذاکرات کے لیے لارنس روڈ پر ایک سرکاری دفتر کا انتخاب کیا گیا اور رات دس بجے کا وقت مقرر کر دیا گیا۔ حکومت کی طرف سے ان مذاکرات میں وفاقی وزرا شیخ رشید، نورالحق قادری، وزیراعظم کے معاون علامہ طاہر اشرفی، گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور، صوبائی وزرا راجہ بشارت اور سعد سعید الحسن کے علاوہ طاقتور خفیہ ادارے کے ایک سینیئر افسر اور صوبائی انتظامیہ کے افسران بھی موجود تھے۔ذرائع کے مطابق مذاکرات کے لیے کالعدم تحریک لبیک کا چار رکنی وفد ایک گھنٹہ تاخیر سے مذکورہ دفتر پہنچا۔ کالعدم جماعت کی طرف سے مذاکرات میں ڈاکٹر شفیق امینی، علامہ غلام غوث بغدادی اور دیگر شریک تھے۔ تحریک کے رہنماؤں کے چہروں پر مسلسل احتجاج کے باعث تھکن نمایاں تھی۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حکومت سے مذاکرات کے لیے آنے والے کالعدم جماعت کے تقریباً سارے رہنما لاہور پولیس کو سنگین مقدمات میں بھی مطلوب تھے۔ مذاکرات میں شرکت کرنے والے افراد نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتاتے ہیں کہ کالعدم جماعت کے رہنماؤں نے سنجیدہ چہروں کے ساتھ حکومت کی طرف سے کیے گئے کریک ڈاون کی مذمت کی اور اپنے کارکنوں کی اموات کے تناظر میں اسی محفل میں شریک وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ ظاہر ہے مذاکرات کا آغاز ایک منفی انداز میں ہو رہا تھا۔

تاہم گورنر پنجاب چوہدری سرور، علامہ طاہر اشرفی اور دیگر نے اس معاملے میں فوری مداخلت کی اور تحریک کے رہنماؤں کو واضح کیا کہ اگر آپ معاملات خراب کرنا چاہتے ہیں تو آپ کی مرضی، ہم تو یہاں مذاکرات کر کے معاملے کو حل کرنے کے لیے بیٹھے ہیں نہ کہ مزید تلخیاں بڑھانے۔ اس پر ماحول میں تلخی کم ہوئی۔ اس حوالے سے وزیرِ اعظم کے معاون طاہر اشرفی نے بی بی سی کو بتایا کہ کہ تحریک کے نمائندوں نے اپنے کارکنوں پر مقدمات ختم کرنے اور ان کی رہائی کی بات کی تو اس پر آئی جی پنجاب انعام غنی نے واضح کیا کہ سنگین مقدمات ختم کریں گے نہ ان مقدمات میں قید کسی بھی شخص کو رہا کریں گے۔ تاہم اجلاس میں نقص امن عامہ یعنی 16 ایم پی او کے تحت گرفتار کیے گئے افراد کی رہائی پر اتفاق کر لیا گیا۔ تحریک کے نمائندوں کو اس حوالے سے آئی جی پنجاب کا رویہ بڑا دو ٹوک لگا لہذا اس معاملے پر مزید لمبی بحث کی بجائے اس پر اتفاق کر لیا گیا۔ اس اجلاس میں حکومت اور تحریک لبیک میں کچھ باتوں پر اتفاق تو ہو گیا مگر ان پولیس والوں کے لواحقین کہیں پیچھے رہ گئے جنھوں نے اس سارے بحران میں امن عامہ کو یقینی بناتے ہوئے اپنی جانیں تک قربان کر دی تھیں۔ حکومت اور کالعدم تحریک کے درمیان معاہدہ ہو گیا مگر پولیس کی کارکردگی کے باوجود پنجاب سمیت پورے ملک میں پولیس کو مناسب بجٹ، تنخواہوں میں اضافے، تھانے اور تفتیشی افسران تک اصلاحات کے آثار کہیں دور بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل نظر نہیں آ رہے۔(بشکریہ : بی بی سی

About admin

Check Also

سابق وزیراعظم نواز شریف کو 4ہارٹ اٹیک۔۔۔ لندن سے انتہائی تشویشناک خبر، ن لیگی رہنما نے تصدیق کر دی

اسلام آباد(نیو ڈیسک)سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ نواز شریف علاج کروا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *