Breaking News

فردوس عاشق نے مولانا فضل الرحمان کوکرونا ویکسین لگوانے کی دعوت دیدی۔

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک/آن لائن) وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کو کرونا ویکسین لگانے کی دعوت دے دی۔ لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ کروناویکسین لگوا لیں۔ قبل ازیں جعلی راجکماری عدالتوں پر یلغار کر کے لانگ مارچ کا ٹریلر دکھانا چاہتی ہیں۔ مریم نواز کا جتھوں کی صورت میں عدالت پر چڑھائی کرنے کا ارادہ ایک طرف تو ان کی مایوسی کی انتہاکو ظاہر کررہا ہے ۔

تو دوسری طرف ان کے ابا جی کے اداروں پر یلغار کرنے کے سیاسی سٹائل کو داہرنے کی کوشش ہے۔ جعلی راجکماری مخالفین کا منہ توڑنے اور زبان کھینچنے کی بات کر کے اپنی اصل تربیت کے پول کھول رہی ہیں۔ فکر نہ کریں اس وقت ملک کا وزیر اعظم عمران خان ہے۔ مریم کی یسی تمام خواہشیں دل ہی میں رہ جائیں گے اور قانون اپنا راستہ بناتے ہوئے مریم سمیت ہر کرپٹ اور ٹھگ کو اس مقام پر پہنچائے گا،جس کا وہ سزاوار ہے۔ مریم کی پیشی پر عدالت پر چڑھائی کرنے کا اعلان کر کے فضل الرحمن نے لانگ مارچ کے در پردہ مقاصد سے بھی پردہ اٹھا دیاہے۔ اداروں اور عدالتوں پر یلغار ن لیگ کی پرانی روایت ہے یہ لوگ اسی کو ہی جمہوریت کہتے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کی عوام دشمنی اپنی آخری حدوں کو پہنچ چکی ہے۔ ایک طرف عوام کو کرونا کے ہاتھوں جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں اور دوسری طرف مرحوم ہوجانے والی پی ڈی ایم کے جسد خاکی پر لواحقین کی آہ و بکا اور واویلا ہے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔آج اپنے ایک بیان اور بعد ازاں کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فردوس عاشق نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن نے لانگ مارچ کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا ہے۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ لانگ مارچ نہ ہوا تو ان کی سیاسی کشتی ہمیشہ کے لئے ڈوب جائے گی۔ پی ڈی ایم کا اتحاد پارہ پارہ ہو چکا ۔ مریم نواز کی سینیٹ میں اپنا اپوزیشن لیڈر لانے کی ضد اور پیپلز پارٹی کے بغیر لانگ مارنگ کرنے کا عندیہ بتا رہا ہے کہ پی ڈی ایم لخت لخت ہو چکی ہے۔ مولانا فضل الرحمن آصف زرداری کے ترلے کر رہے ہیں کہ وہ باقی نو پارٹیوں کی بات مان جائیں لیکن زرداری صاحب نے انہیں ٹھینگادکھا دیا ہے۔ پی ڈی ایم کے معاملات اب مولانا تو کیا کسی کے کنٹرول میں بھی نہیں رہے، پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی روایتی دشمنی سر چڑھ کر بول رہی ہے۔ مولانا کی آنیوں جانیوں کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ مریم کے پاپا جھوٹ موٹ کی بیماری کی آڑ میں پتلی گلی سے بیرون ملک فرار ہو گئے،ایسے بزدل باپ کی بیٹی کو حکومت کو دھمکیاں دیتے ہوئے شرم آنی چاہیے۔ پی ڈی ایم کا اتحاد رہے یا نہ رہے اس کا ڈنگ نکل چکا ہے۔ حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑتا ،بعد ازاں کراچی میں حلیم عادل شیخ کی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے معاون خصوصی نے کہا کہ وہ اپنے بھائی حلیم عادل شیخ ، انکے اہلخانہ ، دوستوں ،پی ٹی آئی کارکنان اور سندھ کے اندر پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے جہاد کرنے والے مجاہدوں اور سندھ حکومت کی جعلی جمہوریت کو بے نقاب کرنے میں مصروف عمل اپنے ساتھیوں کی کاوشوں کو داد تحسین دینے کراچی آئی ہیں۔ حلیم عادل شیخ اور پی ٹی آئی کے کارکنوں نے پیپلرز پارٹی کے چہرے سے خود ساختہ جمہوریت کا نقاب اتار پھینکا ہے۔ سندھ حکومت کا کردار بےنقاب ہو چکا ہے۔ جو حق کےلئے کھڑے ہو کر نیشنل محاز کی جنگ لڑتے ہیں ان کی سوچ کا مرکز اور محور پاپڑی ،چھابڑی، فالودے والے نہیں ہوتے۔ ہمارے کارکنوں میں سیاہ کاریوں سے ٹکرانے کا جزبہ موجود ہے۔ سندھ حکومت جو جھوٹے من گھڑت مقدمات حلیم عادل پر بنا رہی ہے وہ یاد رکھےایسے اوچھے ہتھکنڈے پی ٹی آئی کارکنوں کو آکسیجن مہیا کرتے ہیں ۔ سندھ حکومت نے حلیم عادل شیخ پر چار مقدمات قائم کئیے جن میں سے دو دہشتگردی کے مقدمات بھی شامل ہیں۔ سندھ حکومت اور پی ڈ ی ایم کا نظریہ لوٹ کھوٹ، کرپشن اور اداروں کو لولا لنگڑا کرنا ہے۔ پی پی حکومت قانون کو گھر کی لونڈی بنا کر اپوزیشن کی آواز دبانا چاہتی ہے مگر وہ یاد رکھے کہ ایسے ہتھکنڈوں سے ہمارا ورکز مزید مضبوط ہو کر عمران خان کی قیادت میں یکجا ہو کر کھڑا ہوجاتا ہے وہ تمام گلے شکوے پس پشت ڈالتے ہوئے چٹان کی طرح عمران خان کے مشن کا حصہ بن جاتا ہے۔ جمہوریت کی دعویدار سندھ حکومت نے سٹینڈنگ کمیٹیوں میں اپوزیشن کو دیوار سے لگا رکھا ہے جبکہ پارلیمنٹ اور سینیٹ میں پی پی اپنا حصہ مانگتی ہے۔ تمام سٹینڈنگ کمیٹیوں میں پی پی شامل ہے۔ مگر سندھ میں تیسری نسل تک سیاست کرنے والوں نے فرد واحد اور آمرانہ حکومت قائم کررکھی ہے۔ حلیم عادل بھی آمرانہ جمہوریت کا شکار ہیں۔ یہ ڈھٹائی سے ٹی وی پر بیٹھ کر وفاق اور پنجاب کو لیکچر دیتے ہیں مگر سندھ کی حالت قابل ترس ہے، میڈیاں کی سکرین دکھاتی ہے کہ سندھ میں چالیس ارب کی گندم چوہے کھا گئے

یہ کیسے چوہے ہیں، دراصل یہ سندھ کے چلتے پھرتے اور پروٹوکول لیتے چوہے ہیں جو چالیس ارب کی گندم ہڑپ کر گئے ۔ ان کی گڈگورننس کا حال یہ ہے کہ سندھ میں سال 2021میں 48ہزار سے زیادہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات ہوئے ، پی ڈی ایم کا ایک تھیٹر سندھ میں لگا ہوا ہے۔ زرداری نے شاہی خاندان کے ساتھ یاری لگائی جو ٹٹ گئی تڑک کر کے ۔ راجکماری مولانا کے کندھے پر سر رکھ کر آہ و سسکیاں بھر رہی ہے، زرداری کا ایٹم بم پی ڈی ایم اور مولانا پر چلا گیا ، زرداری نے ن لیگ اور مولانا کو ماموں بنا دیا ہے 15 سال سے یہ سندھ کی عوام کو جس طرح ماموں بنا رہے تھے اسی طرح انہوں نے پی ڈی ایم کو بھی ماموں بنا دیا ۔ مگر اب ان کی ڈرامہ بازیاں آخری سانسیں لے رہی ہے۔ پی ڈی ایم سندھ حکومت کے لئے میدان خالی نہیں چھوڑے گی، ہم ماموں نہیں بنیں گے، اب پی ٹی آئی کے مشن کو گلی محلے تک تقویت دینے جا رہے ہیں۔

About admin

Check Also

دنیا کی نظروں میں قبضہ مافیاکہلانے والاتاجی کھوکھر درحقیقت ایک کیسا انسان تھا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)اسلام آباد کی معروف کاروباری شخصیت اور سابق رکن قومی اسمبلی حاجی نواز …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *